شیخ القرآن والحدیث مولانا گوہر رحمن رحمہ اللہ
سابق: صدر رابطۃ المدارس الاسلامیہ پاکستان
مولانا گوہر رحمنؒ ایک صاحب ِ علم دینی گھرانے میں مانسہرہ کے ایک چھوٹے سے گائوں (چمراسی درہ شنگلی) میں ۱۹۳۶ء میں پیدا ہوئے۔ والد محترم مولوی شریف اللہ کے انتقال کے بعد‘ جو آبائی گائوں سے کوئی ۱۰ میل دُور کوبائی نام کے ایک گائوں میں امام تھے‘ عالم طفولیت ہی میں والدہ‘ ایک بھائی اور تین بہنوں کے ساتھ‘ دنیوی سہارے سے محروم ہو کر‘ ننھیال منتقل ہو گئے اور بڑی عسرت کی زندگی گزاری۔ ماں کی محبت اور محنت سے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا‘ پرائمری تعلیم کے بعددینی تعلیم حاصل کی اور ۱۵ سال کی عمر میں درسِ نظامی سے فراغت حاصل کر لی۔ اس زمانے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ’’کھانا تو مسجد میں کسی نہ کسی طرح مل ہی جاتا تھا اگرچہ ہشت نگر کے گائوں شیخوتروسردھڑی کے دورانِ قیام میں بعض اوقات ہفتوں تک دن کا فاقہ کرنا پڑتا تھا لیکن کپڑوں اور جوتوں کے لیے اسباق کے اوقات کے بعد مزدوری کرتا تھا‘‘۔
ایسی پُرمشقت زندگی کے باوجود انھوں نے حصولِ علم میں کوئی دقیقہ نہ چھوڑا اور ۱۹۵۱ء میں تحصیل صوابی کی ایک مسجد میں درس و تدریس کا آغاز کیا۔ پھر مولانا غلام اللہ خان مرحوم کے دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی اور دارالعلوم سلفیہ فیصل آباد میں مختصر مدت کے لیے درس وتدریس کے فرائض انجام دینے کے بعد بالآخر مولانا غلام حقانی امیرجماعت اسلامی صوبہ سرحد کے مشورے سے ۱۹۶۷ء میں دارالعلوم تفہیم القرآن کی بنیاد ڈالی جو مولانا گوہر رحمن کی مسلسل محنت‘اللہ تعالیٰ کے فضل اور ساتھیوں کی تائید و معاونت سے آج صوبہ سرحد کی ایک عظیم جامعہ کا مقام حاصل کرچکی ہے۔ اس سے ہزاروں طلبا دین کا علم حاصل کر کے ملک ہی نہیں دنیا کے طول و عرض میں پھیل چکے ہیں۔ دارالعلوم تفہیم القرآن آج ایک منفرد تعلیمی ادارہ ہے جس میں مخلص اور صاحب ِ نظر اہل علم جمع ہیں اور جو قدیم کے ساتھ جدید کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔
مولانا گوہر رحمن کا جماعت اسلامی سے تعلق ۱۹۵۲ء میں قائم ہوا اور رکنیت کا رشتہ ۱۹۶۳ء میں استوار ہوا جس کے بعد وہ تحریک میں اہم سے اہم تر ذمہ داریوں کے مناصب پر فائز ہوتے رہے۔ وہ ۱۹۶۳ء سے وفات تک مرکزی شوریٰ کے رکن رہے‘ کئی کمیٹیوں کے سربراہ بنے، ۱۲‘ ۱۳ سال صوبہ سرحد کے امیر رہے‘ جمعیت اتحادالعلما کے سرپرست اعلیٰ منتخب ہوئے اور ۱۹۸۷ء سے رابطہ المدارس کے صدر رہے۔ ۱۹۸۵ء سے ۱۹۸۸ء تک مرکزی اسمبلی کے رکن رہے۔ اسی زمانے میں انھوں نے شریعت بل (مئی ۱۹۸۵ئ) کا مسودہ اسمبلی میں پرائیویٹ ممبرز بل کے طور پر پیش کیا جو سینیٹ میں شریعت بل کی بنیاد بنا۔ ملک میں نفاذِ شریعت کی تحریک کو پروان چڑھانے میں مولانا گوہر رحمن کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل رہا۔
فکری اعتبار سے مولانا مرحوم اپنے کو دیوبندی مکتب ِ فکر کا حصہ سمجھتے تھے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ہمارے پورے علمی ورثے کے وارث تھے۔ طالب علمی ہی کے دور میں شاہ اسماعیل شہیدؒ کی کتاب تقویۃ الایمان سے متاثر ہوئے۔ امام ابن تیمیہؒ، امام ابن قیمؒ اور شاہ ولیؒ اللہ کی فکر میں رچ بس گئے۔ مولانا مودودیؒ کی کتاب الجہاد فی الاسلام، ان کو مولانا کے حلقے میں لے آئی اور وہ تحریک کی فکر کے صاحب ِ نظر ترجمان بن گئے۔ فقہ حنفی سے خصوصی نسبت کے باوجود ان کے خیالات میں بڑی وسعت تھی اور خود ایک مقام پر کہتے ہیں کہ ’’ذہن میں بحمدللہ جموداور گروہی عصبیت نہیں ہے‘‘۔ امام عبدالوہاب شعرانی ؒ کے مکاشفے نے جو انھوں نے اپنی کتاب المیزان الکبریٰ میں نقل فرمایا ہے‘ ذہن وفکر کی وسعت کو اور بڑھا دیا ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے محسوس کیا ہے کہ علم رسولؐ کی مثال ایک بڑے اور وسیع حوض کی ہے جس کے چاروں طرف نالیاں ہیں اور ہر ایک میں اس کی وسعت کے مطابق حوض کا پانی بہہ رہا ہے۔ مگرایک بڑی نالی ہے جس میں سب سے زیادہ پانی بہہ رہاہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ بڑی نالی امام ابوحنیفہؒ کی فقہ ہے اور باقی نالیاں دوسرے ائمہ کی فقہ ہے‘‘۔
مولانا گوہر رحمن نے دورۂ تفسیرقرآن کی روایت ۱۹۶۷ء سے قائم کی۔ پہلے‘ سال میں دو بار پورے قرآن کی تفسیر بیان فرماتے تھے۔پھر تحریکی ذمہ داریوں کی وجہ سے اسے سال میں ایک بار کر دیا۔ منصورہ میں ۱۰ سال ۱۵ شعبان سے ۲۷ رمضان تک ڈیڑھ مہینے میں ہر سال سیکڑوں مرد و خواتین کو مکمل قرآن کا درس دیا ۔ درس کا یہ سلسلہ روزانہ ۸ سے ۱۰ گھنٹے چلتا تھا جو محض روایتی درس قرآن نہ تھا بلکہ قرآن کے پیغام و معانی کے ساتھ عصری مسائل و معاملات پر ان تعلیمات کے اطلاق اور قرآن کی روشنی میں مطلوبہ انسان اور معاشرے کے قیام تک کے مباحث پر محیط ہوتا اورایمان‘ علم‘اخلاق اور تحریکیت‘ ہر ایک کو جلا بخشنے کا ذریعہ بنتا تھا۔
توحید اور اسلامی سیاست کے موضوع پر انھوں نے بڑی معرکہ آرا کتابیں تحریر کی ہیں جو اہل علم کے لیے ایک مدت تک سرمایۂ جان رہیں گی۔ ان کے مقالات اور وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ میں ریفرنسوں کا مجموعہ تفہیم المسائل کے عنوان سے پانچ جلدوں میں شائع ہوا ہے جو بیک وقت مولانا مودودیؒ کی تفہیمات اور رسائل و مسائل کا رنگ لیے ہوئے ہے۔ اپنے اپنے موضوع پر ہر تحریر معرکے کی چیز ہے۔ سود‘ اسلامی ریاست میں شوریٰ کا مقام‘ اسلام اور جمہوریت کے تعلق کی صحیح نوعیت‘ جدید اسلامی ریاست میں سیاسی جماعتوں کے وجود اور کردار کا مسئلہ‘ اقامت ِ دین کا حقیقی مفہوم اور غلبۂ دین کی جدوجہد کی اصل حیثیت وہ موضوعات جن پر مولانا نے صرف دادِ تحقیق ہی نہیں دی بلکہ بالغ نظری سے جدید حالات کو سامنے رکھ کر دین کے احکام کی تشریح کی ہے اور تطبیق کے میدان میں اجتہادی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے۔ جدید میڈیکل مسائل کے بارے میں بھی ان کی تحقیق روایت اور جدت کا امتزاج ہے۔ وہ جدید دور کے تقاضوں کا کھلے دل سے ادراک کرتے مگر روایت کے فریم ورک میں ان کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی رائے سے کہیں کہیں پورے ادب سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر ان کی رائے کے وزن اور علمی ثقاہت کے بارے میں دو رائے ممکن نہیں۔ میں نے اسلامی سیاست کے طرز پر ’’اسلامی معیشت‘‘ پر لکھنے کے لیے ان سے بار بار درخواست کی لیکن بدقسمتی سے اس موضوع پر انھیں مربوط کتاب لکھنے کی مہلت نہ ملی۔ اگرچہ سود کی بحثوں میں معاشی معاملات پر انھوں نے اپنی جچی تلی آرا کا اظہار کیا ہے۔
مولانا گوہر رحمن بڑی سادہ زندگی گزارتے تھے۔ دلیل کو سننے اور اس پر غور کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے‘ گو اپنی رائے پر دلیل کی بنیاد پر ہی قائم رہتے تھے۔ اجتماعی زندگی کے مسائل کے سلسلے میں افہام و تفہیم کے لیے آمادہ رہتے لیکن جدید کے ادراک کے باوصف اپنے کردار کو قدیم اور روایت ہی کی ترجمانی قرار دیتے۔ دعوت کے میدان میں بے حد سرگرم اور اَن تھک محنت کے عادی تھے۔ علم کا ایک بحربے کراں تھے اور الحمدللہ استحضار علمی کے باب میں منفرد تھے۔ بات منطقی ترتیب سے پیش کرتے اوردین کے معاملے میں کبھی مداہنت سے کام نہ لیتے۔ احتساب کے باب میں بھی ان کی گرفت مضبوط اور بے لاگ ہوتی۔ تدبیر کے معاملات میں اختلاف بھی پوری قوت سے کرتے اور پھر جو فیصلہ ہو جائے اس پر دیانت داری سے عمل کرتے‘ البتہ جس چیز کو شریعت کے باب میں راہ صواب کے مطابق نہ پاتے اس پر کبھی سمجھوتہ نہ کرتے لیکن شریعت کے دائرے میں جو حل نکلتا اسے خوش دلی سے قبول کر لیتے۔ اپنے اختلاف کو کبھی ذاتی تعلقات پر اثرانداز نہ ہونے دیتے جو ان کے کردار کی عظمت کی نشانی ہے۔
مجھے مولانا گوہر رحمن سے متعدد امور پر علمی استفادے کا موقع ملا اور میں نے ان کو ہمیشہ ایک روشن دماغ صاحب ِ علم پایا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن سے استفادہ بھی ایک سعادت تھی اور اختلاف بھی ایک درس کا درجہ رکھتا تھا۔ تحریکی زندگی میں ایک دور ایسا بھی آیا جس میں مولانا شدید اضطراب کا شکار تھے۔ کچھ چیزوں پر انھیں شدید عدمِ اطمینان تھا لیکن اس کے ساتھ تحریک سے وفاداری اور تعلق کے متاثر نہ ہونے دینے کی خواہش بھی تھی۔ ایک بہت ہی نازک مرحلے پر میں نے اور محترم چودھری رحمت الٰہی صاحب نے مردان کا سفر صرف اس لیے کیا کہ مولانا کے نقطۂ نظر کو سمجھیں اور اختلاف کے باوجود تحریک سے تعلق کی استواری میں کمی نہ آنے کی درخواست کریں۔ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کو اجرعظیم دے کہ اپنے انقباض کے باوجود ہماری اور دوسرے احباب کی کوششوں سے‘ اور سب سے بڑھ کر اللہ کے فضل و کرم سے‘ وہ اس دور سے جلد نکل آئے اور پھر اس کا کوئی سایہ ان کے تحریکی کردار پر باقی نہ رہا۔ جزاھم اللّٰہ خیرالجزائ۔
وہ کئی سال سے بیمار تھے۔ قوتِ کار برابر کم ہو رہی تھی۔ کمزور سے کمزور تر ہوتے جا رہے تھے لیکن ان کے عزم اور شوقِ کار میں کوئی کمی نہ آئی۔ اپنی زندگی کے شوریٰ کے آخری اجلاس میں بھی شریک تھے اورکھڑے ہوکر تقریر فرمائی اور اپنے خیالات کا اظہار اسی شان سے اور دلیل اور جرأت سے کیا جو اُن کا شعار تھا۔ زیربحث موضوع پر اپنی جچی تلی رائے کا اظہار دلائل کے ساتھ اور نکات کی تعداد کے تعین کے ساتھ کیا۔ البتہ ان کی نقاہت اور آواز کے گلوگیر ہوجانے سے دل کودھچکا لگا اور ان کے لیے صحت اور درازیٔ عمر کی دعا کی۔ آخری ملاقات ان کے لائق فرزند ڈاکٹر عطاء الرحمن کی پارلیمانی لاج کی قیام گاہ پر جنوری کے مہینے میں ہوئی۔ کیا خبر تھی کہ اس کے بعد ان سے ملنے کی سعادت حاصل نہ ہوگی اور ۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء کو ان کے انتقال کی خبر ملے گی--- اناللّٰہ وانا الیہ راجعون!
