Skip to main content

قواعد وضوابط

 

امتحانمعادل سرکاری سندکم از کم تعلیمی دورانیہ
شہادۃ الابتدائیہپرائمری٥ سال
شہادۃ المتوسطہمڈل٢  سال تحتانی سند کے بعد
شہادۃ الثانویہ العامہمیٹرک۲ سال تحتانی سند کے بعد
شہادۃ الثانویہ الخاصۃانٹرمیڈیٹ۲ سال تحتانی سند کے بعد
شہادۃ العالیہبی۔ اے۲ سال تحتانی سند کے بعد
شہادۃ العالمیۃایم۔ اے اسلامیات و عربی۲ سال تحتانی سند کے بعد

رابطہ کے امتحانات کی تعداد:۔

علاوہ ازیں رابطہ شہادۃ تحفیظ القرآن اورشہادۃ تجوید القرآن بھی جاری کرنے کا مجاز ہوگا۔ رابطہ کے دیگر امتحانات کے لیے شہادۃ تحفیظ القرآن مع شہادۃ الابتدائیہ کو شہادۃ المتوسطہ کے معادل شمار کیا جائے گا اور شہادۃ تجوید القرآن مع شہادۃ الثانویہ العامہ کو شہادۃ الثانویہ الخاصہ کے معادل شمار کیا جائے گا۔

2۔ رابطہ کے امتحانات سال میں دو مرتبہ منعقد ہوں گے۔ پہلا امتحان ہر سال رجب المرجب کے آخری ہفتہ میں اور دوسرا امتحان ذوالحجہ کے آخری ہفتہ میں منعقد ہوگا۔ یہ امتحانات درج ذیل ناموں سے موسوم ہوں گے۔

 

پہلا امتحانالامتحان السنوی
دوسرا امتحانالامتحان الفصلی

 

۳ : رابطہ کے کسی امتحان میں شریک ہونے والے باقاعدہ طالب علم کے لیے لازم ہوگا کہ اس نے:

۔متعلقہ امتحان سے ماقبل امتحان یا اس کا معادل امتحان دو سال قبل پاس کر لیا ہو۔

امتحان سے دو سال قبل کسی مدرسہ/ دارالعلوم/جامعہ میں بطور باقاعدہ طالب علم داخل ہوا ہو اور ان دو سالوں میں مجموعی اعتبار سے ۷۵ فیصد حاضریاں مکمل کی ہوں

۔امتحان کے لیے مقررہ فیس اور داخلہ فارم اپنے مہتمم /مدیر کی وساطت سے مقررہ تاریخوں تک رابطہ کے دفتر میں جمع کرا چکا ہو۔

شناختی کارڈکی ایک نقل اور دو عدد تصاویر جواداراہ کے صدر مدرس /مدیر یا مہتمم /ڈائریکٹر سے تصدیق شدہ ہوں ‘ پیش کرنا لازمی ہوگا۔معادل اسناد:
 

معادل اسناد:  

ضابطہ ۳ کے تحت معادل تحتانی اسناد ایسے وفاق/ تنظیم کی بھی قابل قبول ہوگی جن کی رابطہ نے اس مقصد کے لیے منظور ی دی ہو۔ 

 

 امتحان میں کامیابی کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع کی تعداد:

رابطہ کے کسی امتحان میں پہلی مرتبہ جزوی طور پر کامیاب ہونے کے بعد اُمیدوار مکمل کامیابی کے لیے دو متصل امتحانی مواقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ کسی سنوی امتحان میں پہلی مرتبہ شامل ہونے والے کے لیے آخری موقع اگلے سال سنوی امتحان تک ہوگا اور کسی فصلی امتحان میں پہلی مرتبہ شامل ہونے والے اُمیدوار کے لیے آخری موقع اگلے سال کے فصلی امتحان تک ہوگا۔ 

 ایسا اُمیدوار جو تین متصل امتحانات میں کامیابی حاصل نہ کرسکے اسے پورا امتحان دوبارہ دینا ہوگا۔ 

 

پاس ہونے کے لیے نمبر:

  کسی امتحان میں کامیابی کے لیے امیدوار کو ہر پرچے میں فرداً فرداً( 40) فیصد نمبر حاصل کرنا ہوں گے۔ 

 اُمیدوار کے لیے تمام امتحانی مضامین میں پاس ہونا لازم ہوگا۔

   کامیاب امیدوار کی سند پر مجموعی نمبروں کے علاوہ تقدیر (گریڈ) کا بھی اندراج ہوگا۔ ہر تقدیر درج ذیل فیصد تناسب سے دی جائے گی۔ 

تقدیرفیصد نمبر نمبرات
ممتاز70 فیصد یا زائد 420 تا 600
جیدجداً60 فیصد تا 69 فیصد 360 تا 419 
جید50 فیصد تا 59 فیصد300 تا 359
مقبول40 تا49  فیصد240 تا 299  

کامیاب اُمیدوار بہتر تقدیر حاصل کرنے کے لیے صرف ایک مرتبہ پورا امتحان دوبارہ بھی دے سکتا ہے۔ تاہم بہتر تقدیر کے لیے امتحان دینے کے ایک موقع سے صرف اگلے ایک سال میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

کسی امتحانی بے ضابطگی کے مرتکب اُمیدوار کو جتنے مواقع کے لیے امتحان دینے کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہو وہ ان مواقع کے ختم ہونے پر اگر کوئی موقع ابھی اس کا باقی ہو تو اس سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی۔

جو طالب علم نقل کا مرتکب ہووہ آنے الے دوامتحانات کے لیے بھی نااہل ہو گااور جس امیدوار نے اپنی جگہ کسی دوسرے امیدوار کو بٹھایا تو وہ امیدوار اگلے چار امتحانات کے لئے نااہل ہوگا ۔

مختلف امتحانات کے لیے داخلہ فیس درجہ ذیل شرح سے وصول کی جائے گی۔

 

نمبر شمار  امتحانداخلہ فیس
1دراسات دینیہ  900 روپے
2شہادۃ المتوسطہ  900 روپے
3شہادۃ تحفیظ القرآن الکریم900 روپے
4شہادۃ تجوید القرآن الکریم  900 روپے
5شہادۃ الثانویہ العامہ  900 روپے
6شہادۃ الثانویہ الخاصہ اول900 روپے
7شہادۃ الثانویہ الخاصہ دوم 900 روپے
8شہادۃ العالیہ اول 1000 روپے
9شہادۃ العالیہ دوم1000 روپے
10شہادۃ العالمیہ اول1000 روپے
11شہادۃ العالمیہ دوم  1000 روپے
12الحاق فیس5000 روپے
13تجدید الحاق سالانہ فیس برائے عالیہ و عالمیہ مدارس    3000 روپے
14تجدید الحاق سالانہ فیس برائے عامہ،متوسطہ،حفظ وتجوید مدارس2500 روپے
15مثنیٰ سند1000 روپے
16تصحیح سند300 روپے
17تصدیق اسناد500 روپے
18Duplicate بطاقہ 200 روپے
19NOC (Migration Certificate) 500 روپے